صفحات

Monday, 4 January 2016

پوچھتے کیا ہو کیوں کر ہم پہنچے ہیں ایسے حالوں میں

پوچھتے کیا ہو کیوں کر ہم پہنچے ہیں ایسے حالوں میں
ہم جیسے بھی پڑ جاتے ہیں دنیا کے جنجالوں میں
جس قصے کو ختم کیا جا سکتا تھا کچھ لمحوں میں
سوچ بچار ہی کر پائے ہیں اس پر اتنے سالوں میں
خوابوں سے محروم رہا کرتے ہیں دنیا جیت کے بھی
ایک کمی اکثر یہ رہ جاتی ہے جاگنے والوں میں
روزِ ازل سے طے یہ ہوا تھا کٹ جائے بس ایسے ہی
میری عمر جواب دہی میں، تیری عمر سوالوں میں
اپنا آپ مٹا ڈالا ہے اس بے کار سی خواہش میں
میرا ذکر کتابوں میں ہو، میرا ذکر رسالوں میں
چہک پرندوں کی ہی لے آتی ہے زیرِ دام انہیں
ایک حوالہ خوش گفتاری بھی تھا میرے حوالوں میں

شبنم شکیل

No comments:

Post a Comment