پوچھتے کیا ہو کیوں کر ہم پہنچے ہیں ایسے حالوں میں
ہم جیسے بھی پڑ جاتے ہیں دنیا کے جنجالوں میں
جس قصے کو ختم کیا جا سکتا تھا کچھ لمحوں میں
سوچ بچار ہی کر پائے ہیں اس پر اتنے سالوں میں
خوابوں سے محروم رہا کرتے ہیں دنیا جیت کے بھی
روزِ ازل سے طے یہ ہوا تھا کٹ جائے بس ایسے ہی
میری عمر جواب دہی میں، تیری عمر سوالوں میں
اپنا آپ مٹا ڈالا ہے اس بے کار سی خواہش میں
میرا ذکر کتابوں میں ہو، میرا ذکر رسالوں میں
چہک پرندوں کی ہی لے آتی ہے زیرِ دام انہیں
ایک حوالہ خوش گفتاری بھی تھا میرے حوالوں میں
شبنم شکیل
No comments:
Post a Comment