یہ پھول یہ سبزہ یہ گھٹا میرے لیے ہے
ساون میں پپیہے کی صدا میرے لیے ہے
رنگوں کا یہ سیلاب یہ خوشبوؤں کا طوفان
مہکی سی دھنک رنگ فضا میرے لیے ہے
وہ آنکھ کہ خوابوں کا ہے شاداب جزیرہ
مہتاب کی کرنوں سے برستی ہوئی چاندی
یہ منظرِ سیمیں بھی ڈھلا میرے لیے ہے
ہر عہد میں اس کے لیے سرچشمۂ حیواں
ہر دور میں مرنے کی سزا میرے لیے ہے
شورش سے ہو لبریز کہ بے آہ فغاں ہو
فریاد کی ہر طرزِ ادا میرے لیے ہے
گو زہر پیالہ ستی میرا نے پیا تھا
تلخی کا مگر اس کی مزا میرے لیے ہے
شبنم شکیل
No comments:
Post a Comment