صفحات

Saturday, 2 January 2016

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا
ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا
کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے
ہر اِک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا
میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا، ورنہ
مجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا
مجھے تلاش کرو گے، تو پھر نہ پاؤ گے
میں اِک صدا ہوں، صداؤں کا گھر نہیں ہوتا
ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہے
کسی فقیر کو شاہوں کا ڈر نہیں ہوتا
میں اس مکاں میں رہتا ہوں اور زندہ ہوں
وسیمؔ جس میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا

وسیم بریلوی 

No comments:

Post a Comment