سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا
ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا
کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے
ہر اِک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا
میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا، ورنہ
مجھے تلاش کرو گے، تو پھر نہ پاؤ گے
میں اِک صدا ہوں، صداؤں کا گھر نہیں ہوتا
ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہے
کسی فقیر کو شاہوں کا ڈر نہیں ہوتا
میں اس مکاں میں رہتا ہوں اور زندہ ہوں
وسیمؔ جس میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا
وسیم بریلوی
No comments:
Post a Comment