Sunday, 3 January 2016

بجھ گیا رات وہ ستارا بھی

بجھ گیا رات وہ ستارا بھی 
حال اچھا نہیں ہمارا بھی 
یہ جو ہم کھوئے کھوئے رہتے ہیں 
اس میں کچھ دخل ہے تمہارا بھی
ڈوبنا ذات کے سمندر میں
ہے یہ طوفان بھی کنارا بھی
اب مجھے نیند ہی نہیں آتی
خواب ہے خواب کا سہارا بھی
لوگ جیتے ہیں کس طرح اجملؔ
ہم سے ہوتا نہیں گزرا بھی

اجمل سراج

No comments:

Post a Comment