صفحات

Friday, 8 January 2016

دل کی حالت کہی نہیں جاتی

دل کی حالت کہی نہیں جاتی
اور کہوں تو سنی نہیں جاتی
او مِرا قلب توڑنے والے
پھول کی تازگی نہیں جاتی
رات کی رات کٹ گئی توبہ
قلب کی بے کلی نہیں جاتی
دامنِ دوست نے کرم تو کِیا
چشمِ تر کی نمی نہیں جاتی
اللہ، اللہ، کسی کا رعبِ جمال
ہم سے تو بات کی نہیں جاتی
ان پہ کیوں اعتبار کرتا ہوں
کیوں مِری سادگی نہیں جاتی
مئے الفت پئے ہُوئی مدت
آج تک بے خودی نہیں جاتی
تم پریشاں ہو کس لیے بہزادؔ
تم سے تو بات کی نہیں جاتی​

بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment