دل کی حالت کہی نہیں جاتی
اور کہوں تو سنی نہیں جاتی
او مِرا قلب توڑنے والے
پھول کی تازگی نہیں جاتی
رات کی رات کٹ گئی توبہ
دامنِ دوست نے کرم تو کِیا
چشمِ تر کی نمی نہیں جاتی
اللہ، اللہ، کسی کا رعبِ جمال
ہم سے تو بات کی نہیں جاتی
ان پہ کیوں اعتبار کرتا ہوں
کیوں مِری سادگی نہیں جاتی
مئے الفت پئے ہُوئی مدت
آج تک بے خودی نہیں جاتی
تم پریشاں ہو کس لیے بہزادؔ
تم سے تو بات کی نہیں جاتی
بہزاد لکھنوی
No comments:
Post a Comment