Friday, 8 January 2016

محبت پر بہت مغرور ہوں میں

محبت پر بہت مغرور ہوں میں
ابھی منزل سے کوسوں دور ہوں میں
حسیں جلوؤں کا مرکز بن گیا ہوں
ادھر دیکھو سراپا طور ہوں میں
جہانِ عاشقی میں ضبط کے ساتھ
فغاں کرنے پہ بھی مجبور ہوں میں
چڑھا دو مجھ کو تم دارِ نظر پر
محبت کی قسم منصور ہوں میں
جفاؤں سے نہ اپنی دست کش ہو
جفائے حسن پر مسرور ہوں میں
قریں تر ہوں زمانے کی نظر سے
مگر اس کی نظر سے دور ہوں میں
مِری ہستی کو اے بہزادؔ دیکھو
کہ خود ناظر ہوں، خود منظور ہوں میں

بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment