دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا
'جب دھم سے آ کہوں گا 'صاحب سلام میرا
ہمسائے آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی
اس شہر میں ہوا جو چندے قیام میرا
جو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤں گا میں
اچھا مجھے ستاؤ جتنا کہ چاہو، میں بھی
سمجھوں گا گر ہے انشا اللہ نام میرا
میں غش ہوا کہا جوں ساقی نے مجھ سے ہنس کر
یہ سبز جام تیرا، اور سرخ جام میرا
پوچھا کسی نے مجھ کو ان سے کہ کون ہے یہ
'تو بولے ہنس کے 'یہ بھی ہے اک غلام میرا
محشر کی تشنگی سے کیا خوف سید انشاؔ
کوثر کا جام دے گا مجھ کو امام میرا
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment