کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا
غنچے بھی چٹ سے فق ہوئے سارے چمن نے غش کیا
نالہ بھرا جو یاد میں میں نے شمیمِ یار کی
نبضیں گلوں کی چھٹ گئیں بوئے سمن نے غش کیا
میرے تمہارے رابطے دیکھے بہم تو رشک سے
میں نے دوپٹا جب تِرا آنکھوں سے اپنی مَل لیا
اس کی شمیمِ ناز سے بادِ یمن نے غش کیا
اچھی غزل پڑھ اور ایک انشاؔ بدل کے بحر اب
سنتے ہی تیری گفتگو اہلِ سخن نے غش کیا
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment