Monday, 4 January 2016

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا
غنچے بھی چٹ سے فق ہوئے سارے چمن نے غش کیا
نالہ بھرا جو یاد میں میں نے شمیمِ یار کی
نبضیں گلوں کی چھٹ گئیں بوئے سمن نے غش کیا
میرے تمہارے رابطے دیکھے بہم تو رشک سے
نل تو پچھاڑ کھا گرا اس کی دمن نے غش کیا
میں نے دوپٹا جب تِرا آنکھوں سے اپنی مَل لیا
اس کی شمیمِ ناز سے بادِ یمن نے غش کیا
اچھی غزل پڑھ اور ایک انشاؔ بدل کے بحر اب
سنتے ہی تیری گفتگو اہلِ سخن نے غش کیا

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment