Monday, 4 January 2016

خیال کیجیے کیا آج کام میں نے کیا

خیال کیجیۓ کیا آج کام میں نے کِیا
جب اس نے دی مجھے گالی، سلام میں نے کیا
"کہا یہ صبر نے دل سے کہ "لو خدا حافظ
حقوقِ بندگی اپنا، تمام میں نے کیا
جنوں یہ آپ کی دولت، ہوا نصیب مجھے
کہ ننگ و نام کو چھوڑا، یہ نام میں نے کیا
لگا یہ کہنے کہ خیر اختلاط کی خوبی
حوالے یار کے خالی جو جام میں نے کیا
"جھڑک کے کہنے لگے "لگ چلے بہت اب تم
کبھی جو بھول کے ان سے کلام میں نے کیا
ق
کہیں نہ مانیو بہتان ہے یہ سب اس پر
ہنسی کے واسطے یہ اتہام میں نے کیا
مقیم کعبۂ دل جب ہوا تو زاہد کو
روانہ جانبِ بیت الحرام میں نے کیا
عجب طرح کے مزے چاندنی میں دیکھے رات
قرار جا کے جو بر پشتِ بام میں نے کیا
مزا یہ دیکھیے گا، شیخ جی رکے الٹے
جو ان کا بزم میں، کل، احترام میں نے کیا
ہوس یہ رہ گئی، صاحب نے پر کبھی نہ کہا
"کہ "آج سے تجھے انشاؔ غلام میں نے کیا

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment