صفحات

Saturday, 2 January 2016

آج پھر ان کو گلستاں میں خراماں دیکھا

آج پھر ان کو گلستاں میں خراماں دیکھا
رنگ کو رقص میں، نکہت کو پرافشاں دیکھا​
گوشۂ باغ میں اک ماہِ منور چمکا
افقِ ناز سے اک مہرِ درخشاں دیکھا​
پھر ہوئے روح میں اصنامِ تمنا بیدار 
پھر وہی قاعدۂ جلوۂ جاناں دیکھا​
پھر درِ دل پہ جنوں آ کے پکارا، ہشیار
پھر وہی سلسلۂ زلفِ پریشاں دیکھا​
جس کی تابش سے کبھی بزمِ وفا روشن تھی
آج اُس شمع کو محفل میں فروزاں دیکھا​
جانے کیا دیکھ لیا آج کہ باسوز و گداز
ہم نے عابدؔ کو سرِ راہ غزلخواں دیکھا​

عابد علی عابد

No comments:

Post a Comment