آج پھر ان کو گلستاں میں خراماں دیکھا
رنگ کو رقص میں، نکہت کو پرافشاں دیکھا
گوشۂ باغ میں اک ماہِ منور چمکا
افقِ ناز سے اک مہرِ درخشاں دیکھا
پھر ہوئے روح میں اصنامِ تمنا بیدار
پھر درِ دل پہ جنوں آ کے پکارا، ہشیار
پھر وہی سلسلۂ زلفِ پریشاں دیکھا
جس کی تابش سے کبھی بزمِ وفا روشن تھی
آج اُس شمع کو محفل میں فروزاں دیکھا
جانے کیا دیکھ لیا آج کہ باسوز و گداز
ہم نے عابدؔ کو سرِ راہ غزلخواں دیکھا
عابد علی عابد
No comments:
Post a Comment