صفحات

Monday, 4 January 2016

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
دل کی آہٹ سے تِری آواز آتی ہے مجھے
جھاڑ کر گردِ غمِ ہستی کو اڑ جاؤں گا میں
بے خبر! ایسی بھی اک پرواز آتی ہے مجھے
یا سماعت کا بھرم ہے یا کسی نغمے کی گونج
ایک پہچانی ہوئی آواز آتی ہے مجھے
اس کی نازک انگلیوں کو دیکھ کر اکثر عدمؔ
ایک ہلکی سی صدائے ساز آتی ہے مجھے

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment