صفحات

Tuesday, 5 April 2016

گھنی گھنیری رات میں ڈرنے والا میں

گھنی گھنیری رات میں ڈرنے والا میں
سناٹے کی طرح بکھرنے والا میں
جانے کون اس پار بلاتا ہے مجھ کو
چڑھی ندی کے بیچ اترنے والا میں
رسوائی تو رسوائی منظور مجھے
ڈرے ڈرے سے پاؤں نہ دھرنے والا میں
مِرے لیے کیا چیز ہے تجھ سے بڑھ کر یار
ساتھ ہی جینے، ساتھ ہی مرنے والا میں
سب کچھ کہہ کے توڑ لیا ہے ناتا کیا
میں کیا بولوں بات نہ کرنے والا میں
طرح طرح کے ورق بنانے والا تُو
تِری خوشی کے رنگ ہی بھرنے والا میں
دائم ابدی وقت گزرنے والا تُو
منظر سایہ دیکھ ٹھہرنے والا میں

منچندا بانی

No comments:

Post a Comment