صفحات

Tuesday, 5 April 2016

کوئی بھولی ہوئی شے طاق ہر منظر پہ رکھی تھی

کوئی بھولی ہوئی شے طاق ہر منظر پہ رکھی تھی
ستارے چھت پہ رکھے تھے، شکن بستر پہ رکھی تھی
لرز جاتا تھا باہر جھانکنے سے اس کا تن سارا
سیاہی جانے کن راتوں کی اس کے در پہ رکھی تھی
وہ اپنے شہر کے مٹتے ہوئے کردار پر چپ تھا
عجب اک لاپتہ ذات اس کے اپنے سر پہ رکھی تھی
کہاں کی سیرِ ہفت افلاک، اوپر دیکھ لیتے تھے
حسیں اجلی کپا سی برفِ بال و پر پہ رکھی تھی
کوئی کیا جانتا، کیا چیز کس پر بوجھ ہے بانیؔ
ذرا سی اوس یوں تو سینۂ پتھر پہ رکھی تھی

منچندا بانی

No comments:

Post a Comment