صفحات

Tuesday, 5 April 2016

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں
کہ ہم پرندے مقاماتِ گم شدہ کے ہیں
ستم یہ دیکھ کہ خود معتبر نہیں وہ نگاہ
کہ جس نگاہ میں ہم مستحق سزا کے ہیں
قدم قدم پہ کہے ہے یہ جی کہ لوٹ چلو
تمام مرحلے دشوار انتہا کے ہیں
فصیلِ شب سے عجب جھانکتے ہوئے چہرے
کرن کرن کے ہیں پیاسے ہوا ہوا کے ہیں
کہیں سے آئی ہے بانیؔ کوئی خبر شاید
یہ تیرتے ہوئے سائے کسی صدا کے ہیں

منچندا بانی

No comments:

Post a Comment