نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں
کہ ہم پرندے مقاماتِ گم شدہ کے ہیں
ستم یہ دیکھ کہ خود معتبر نہیں وہ نگاہ
کہ جس نگاہ میں ہم مستحق سزا کے ہیں
قدم قدم پہ کہے ہے یہ جی کہ لوٹ چلو
فصیلِ شب سے عجب جھانکتے ہوئے چہرے
کرن کرن کے ہیں پیاسے ہوا ہوا کے ہیں
کہیں سے آئی ہے بانیؔ کوئی خبر شاید
یہ تیرتے ہوئے سائے کسی صدا کے ہیں
منچندا بانی
No comments:
Post a Comment