صفحات

Sunday, 3 April 2016

ہوا چلے تو اذیت شمار کرتے ہیں

ہوا چلے تو اذیت شمار کرتے ہیں
چراغ صبح تلک انتظار کرتے ہیں
ہماری راہ میں دریا کہیں نہیں آتا
ہم آنسوؤں پہ فقط انحصار کرتے ہیں
وہ بند اپنے مکانوں کی کھڑکیاں کر لیں
ہوا کے جھونکے جنہیں سوگوار کرتے ہیں
درخت جانتے ہیں، بولتے نہیں کچھ بھی
وہ کون ہیں جو پرندے شکار کرتے ہیں
رہا نہ بس میں کسی کے بھی زندگی کرنا
چلو یہ راہ بھی ہم اختیار کرتے ہیں

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment