ہوا چلے تو اذیت شمار کرتے ہیں
چراغ صبح تلک انتظار کرتے ہیں
ہماری راہ میں دریا کہیں نہیں آتا
ہم آنسوؤں پہ فقط انحصار کرتے ہیں
وہ بند اپنے مکانوں کی کھڑکیاں کر لیں
درخت جانتے ہیں، بولتے نہیں کچھ بھی
وہ کون ہیں جو پرندے شکار کرتے ہیں
رہا نہ بس میں کسی کے بھی زندگی کرنا
چلو یہ راہ بھی ہم اختیار کرتے ہیں
رمزی آثم
No comments:
Post a Comment