صفحات

Sunday, 3 April 2016

در و دیوار جاں چلے گئے ہیں

در و دیوارِ جاں چلے گئے ہیں
بارشوں میں مکاں چلے گئے ہیں
کچھ دنوں سے ملے نہیں خود سے
ہم اچانک کہاں چلے گئے ہیں؟
دشت میں رہ گئے اکیلے ہم
اور سب کارواں چلے گئے ہیں
کوئی آیا نہ دیکھنے کے لیے
ہم یونہی رائیگاں چلے گئے ہیں
چند لاشیں ملی ہیں بچوں کی
اور کچھ نوجواں چلے گئے ہیں
ایک وحشت ہمارے ساتھ رہی
ہم یہاں سے وہاں چلے گئے ہیں

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment