صفحات

Saturday, 9 April 2016

کچھ احترام شب ہجر بھی بتا دینا

کچھ احترامِ شبِ ہجر بھی بتا دینا
پلک کسی کی جھپک جائے تو سزا دینا
ابھی تو کرتے ہیں کوشش فنائے ہستی کی
مٹا سکے نہ اگر ہم،۔ تو تم مٹا دینا
کسی طرح شبِ فرقت کی صبح ہو جائے
مریضِ ہجر کو چادر ذرا اُڑھا دینا
یہ میری آہوں پہ کہنا کسی کا گھبرا کر
غضب کی آگ لگی ہے کہیں بجھا دینا
نجانے کون سے ذرہ سے بن گیا دوزخ
حضور سہل سمجھتے تھے دل جلا دینا

عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment