صفحات

Saturday, 9 April 2016

الجھن کا علاج آہ کوئی کام نہ آیا

الجھن کا علاج آہ کوئی کام نہ آیا
جی کھول کے رویا بھی تو آرام  نہ آیا
دل سینہ میں جب تک رہا آرام  نہ آیا
کام آئے گا کس کے جو مِرے کام  نہ آیا
یہ کہہ کے سرہانے سے وہ بیمار کے اٹھا
صد شکر کہ مجھ پر کوئی الزام  نہ آیا
بجلی سی کوئی شے مِرے سینے میں کبھی تھی
سوچا تو بہت، یاد مگر نام  نہ آیا
تا حشر نہ بھولے گا عزیزؔ اپنی شبِ ہجر
کیا رات تھی، وہ رات کہ آرام  نہ آیا

عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment