الجھن کا علاج آہ کوئی کام نہ آیا
جی کھول کے رویا بھی تو آرام نہ آیا
دل سینہ میں جب تک رہا آرام نہ آیا
کام آئے گا کس کے جو مِرے کام نہ آیا
یہ کہہ کے سرہانے سے وہ بیمار کے اٹھا
بجلی سی کوئی شے مِرے سینے میں کبھی تھی
سوچا تو بہت، یاد مگر نام نہ آیا
تا حشر نہ بھولے گا عزیزؔ اپنی شبِ ہجر
کیا رات تھی، وہ رات کہ آرام نہ آیا
عزیز لکھنوی
No comments:
Post a Comment