Friday, 8 April 2016

کس کس نے نہیں پوچھا مگر ہم نے نہ ہاں کی

کس کس نے نہیں پوچھا مگر ہم نے نہ ہاں کی
اس طور سے اجڑے ہیں کہ تعمیر کہاں کی
پھر دل ہی لگایا نہ کبھی ہم نے کسی سے
پھر درد کی تصویر،۔۔۔ نہ دیوار پہ ٹانکی
بے ساختہ آگے ہی بڑھا دیتے ہیں سن کر
سمجھے ہی نہیں بات کبھی ہونٹ، زباں کی
اب فال نکلوانے بھی کوئی نہیں جاتا
جب خواب ہی خالی ہوں تو تعبیر کہاں کی
جو جاتا ہے رہ جاتا ہے پھر ہو کے وہیں کا
لوٹے تو کوئی لائے خبر شہرِ گماں کی

رحمان حفیظ

No comments:

Post a Comment