صفحات

Monday, 4 April 2016

دبی دبی سی شرارت سے آئینے کی طرف

دبی دبی سی شرارت سے آئینے کی طرف
وہ دیکھتا ہے محبت سے آئینے کی طرف
وہ چاند لے کے اتر آئی میرے آنگن میں 
میں دیکھتا رہا حیرت سے آئینے کی طرف
یہ تیرے سامنے تیرے ہی نقش ہیں پاگل
نہ دیکھ ایسے حقارت سے آئینے کی طرف
میں اپنی مشکلیں سوچوں تو جان جاتی ہے
وہ جا رہا ہے سہولت سے آئینے کی طرف
مِرا وجود بکھرتا ہی جا رہا ہے زبیرؔ
میں چل پڑا ہوں حقیقت سے آئینے کی طرف

زبیر قیصر

No comments:

Post a Comment