دبی دبی سی شرارت سے آئینے کی طرف
وہ دیکھتا ہے محبت سے آئینے کی طرف
وہ چاند لے کے اتر آئی میرے آنگن میں
میں دیکھتا رہا حیرت سے آئینے کی طرف
یہ تیرے سامنے تیرے ہی نقش ہیں پاگل
میں اپنی مشکلیں سوچوں تو جان جاتی ہے
وہ جا رہا ہے سہولت سے آئینے کی طرف
مِرا وجود بکھرتا ہی جا رہا ہے زبیرؔ
میں چل پڑا ہوں حقیقت سے آئینے کی طرف
زبیر قیصر
No comments:
Post a Comment