صفحات

Saturday, 2 April 2016

ہر غم روزگار چھوڑ دیا

ہر غمِ روزگار چھوڑ دِیا
بے ثمر انتظار چھوڑ دیا
تب ملی جبر سے یہ آزادی 
جب سے ہر اختیار چھوڑ دیا
چھوڑ دی بوریا نشینی بھی 
دائمی اقتدار چھوڑ دیا
فتح اوروں کے نام کرتے ہوئے
دَم بخود کارزار چھوڑ دیا
غیر تو خیر ساتھ کیا دیتے
خود پہ بھی انحصار چھوڑ دیا
چل دِیا وہ بھی دوسری جانب 
میں نے بھی وہ دیار چھوڑ دیا
دفن کر دیں بھلی بری یادیں
یاریاں چھوڑیں، یار چھوڑ دیا
میں یہ سمجھا، کہ میں نے ہی شاید
یارِ مطلب برار چھوڑ دیا
قافلے نے گزر کے رستے سے
گرد اڑائی، غبار چھوڑ دیا
اپنی خوش بختیاں تو یاد رکھیں
حسرتوں کا شمار چھوڑ دیا
سینت کر عجز رکھ لیا دل میں
برملا انکسار چھوڑ دیا
بے دلی باقی رہ گئی یاسرؔ
بے کلی، اضطرار چھوڑ دیا

خالد اقبال یاسر 

No comments:

Post a Comment