صفحات

Saturday, 2 April 2016

لگے جب پیاس تو رستا لہو پینے نہیں دیتا

لگے جب پیاس تو رِستا لہو پینے نہیں دیتا
ادھڑتی کھال بھی میری مجھے سینے  نہیں دیتا
تمنا موت کی رد ہو گئی ہے وقت کے در سے
اگر میں زندگی مانگوں، مجھے جینے  نہیں دیتا
خود اپنی شکل دیکھے ایک مدت ہو گئی مجھ کو
اٹھا لیتا ہے پتھر، ٹوٹے آئینے  نہیں دیتا
زمانہ ان پہ یاسرؔ ناگ کی مانند بیٹھا ہے
مجھے میرے جواہر، میرے گنجینے نہیں دیتا

خالد اقبال یاسر 

No comments:

Post a Comment