شور ہے جس کی ہوا بھی ایسی بستی سے نکل
پھولنا پھلنا ہے تو اس بانجھ مٹی سے نکل سے نکل
پھر انہیں شاداب میدانوں کی جانب لوٹ جا
جیتے جی اس بے گیاہ، آب وادی سے نکل
ہر طرف جھکتی ہوئی چٹیل چٹانیں ہیں جہاں
پھر اسی چھتنار شیشم کی خنک چھاؤں میں بیٹھ
قہر برساتے ہوئے سورج کی چھتری سے نکل
بے نتیجہ ہیں اگر اپنے خیالوں کو بدل
تُو اگر کندن نہیں بنتا تو بھٹی سے نکل
خالد اقبال یاسر
No comments:
Post a Comment