Saturday, 2 April 2016

شور ہے جس کی ہوا بھی ایسی بستی سے نکل

شور ہے جس کی ہوا بھی ایسی بستی سے نکل
پھولنا پھلنا ہے تو اس بانجھ مٹی سے نکل سے نکل
پھر انہیں شاداب میدانوں کی جانب لوٹ جا
جیتے جی اس بے گیاہ، آب وادی سے نکل
ہر طرف جھکتی ہوئی چٹیل چٹانیں ہیں جہاں
اس جہنم زار، تنگ و تار گھاٹی سے نکل
پھر اسی چھتنار شیشم کی خنک چھاؤں میں بیٹھ
قہر برساتے ہوئے سورج کی چھتری سے نکل
بے نتیجہ ہیں اگر اپنے خیالوں کو بدل
تُو اگر کندن نہیں بنتا تو بھٹی سے نکل

خالد اقبال یاسر 

No comments:

Post a Comment