لگے جب پیاس تو رِستا لہو پینے نہیں دیتا
ادھڑتی کھال بھی میری مجھے سینے نہیں دیتا
تمنا موت کی رد ہو گئی ہے وقت کے در سے
اگر میں زندگی مانگوں، مجھے جینے نہیں دیتا
خود اپنی شکل دیکھے ایک مدت ہو گئی مجھ کو
زمانہ ان پہ یاسرؔ ناگ کی مانند بیٹھا ہے
مجھے میرے جواہر، میرے گنجینے نہیں دیتا
خالد اقبال یاسر
No comments:
Post a Comment