صفحات

Monday, 11 April 2016

جنوں کے جذبے جھلک رہے ہیں خوشی مناؤ

جنوں کے جذبے جھلک رہے ہیں خوشی مناؤ
 کہ جام سارے کھنک رہے ہیں خوشی مناؤ 
حیا کے آنچل سرک رہے ہیں خوشی مناؤ 
وفا کے آنسو ڈھلک رہے ہیں خوشی مناؤ 
حسیں گلوں سے ہے منظروں میں جمال ایسا 
کہ رنگ سارے چھلک رہے ہیں خوشی مناؤ 
حسیں پرندے وطن کے ورثے کا گیت گا کر
 عجیب دھن میں چہک رہے ہیں خوشی مناؤ 
یوں گلستاں میں بہار خوشبو لٹا رہی ہے
 وہ ہوش میں بھی بہک رہے ہیں خوشی مناؤ
 نئی رتوں میں چمن کا ایسے مزاج بدلا 
کہ سنگریزے چمک رہے ہیں خوشی مناؤ 
گداز جسموں میں شور ایسا جلالتوں کا 
وہ خواب میں بھی مٹک رہے ہیں خوشی مناؤ
 پرندے شاخِ چمن گلے سے لگا رہے ہیں
 گلوں کو جیسے تھپک رہے ہیں خوشی مناؤ 
کئی پرندے نکل کے جنگل سے اڑ گئے ہیں
 وہ پانیوں پہ مٹک رہے ہیں خوشی مناؤ
 یہی تو نقشِ وفا سے بسملؔ ہر اک فنا کو 
یہ سنگ سارے دمک رہے ہیں خوشی مناؤ 

بسمل صابری

No comments:

Post a Comment