جنوں کے جذبے جھلک رہے ہیں خوشی مناؤ
کہ جام سارے کھنک رہے ہیں خوشی مناؤ
حیا کے آنچل سرک رہے ہیں خوشی مناؤ
وفا کے آنسو ڈھلک رہے ہیں خوشی مناؤ
حسیں گلوں سے ہے منظروں میں جمال ایسا
حسیں پرندے وطن کے ورثے کا گیت گا کر
عجیب دھن میں چہک رہے ہیں خوشی مناؤ
یوں گلستاں میں بہار خوشبو لٹا رہی ہے
وہ ہوش میں بھی بہک رہے ہیں خوشی مناؤ
نئی رتوں میں چمن کا ایسے مزاج بدلا
کہ سنگریزے چمک رہے ہیں خوشی مناؤ
گداز جسموں میں شور ایسا جلالتوں کا
وہ خواب میں بھی مٹک رہے ہیں خوشی مناؤ
پرندے شاخِ چمن گلے سے لگا رہے ہیں
گلوں کو جیسے تھپک رہے ہیں خوشی مناؤ
کئی پرندے نکل کے جنگل سے اڑ گئے ہیں
وہ پانیوں پہ مٹک رہے ہیں خوشی مناؤ
یہی تو نقشِ وفا سے بسملؔ ہر اک فنا کو
یہ سنگ سارے دمک رہے ہیں خوشی مناؤ
بسمل صابری
No comments:
Post a Comment