اب عرضِ ہنر کرنے کا امکاں نہیں ہوتا
کیوں درد کے ماروں کا بھی درماں نہیں ہوتا
اک بزم سجائی تھی تِرے پیار کی خاطر
گھر دل کی زمیں پر کوئی آساں نہیں ہوتا
احساسِ تغافل ہی سے میں شعلہ نوا ہوں
غم ہائے زمانہ تو ملے چاروں طرف سے
یہ درد چھپانا کوئی آساں نہیں ہوتا
کھنڈرات کی عظمت کا تو اندازہ ہے مجھ کو
آئینہ مجھے دیکھ کے حیراں نہیں ہوتا
آنگن میں تو گھر کے کبھی اگتی نہیں فصلیں
رستے میں کہیں کوئی بیاباں نہیں ہوتا
کر دیتا ہے جو جان فدا پیار کی خاطر
اک بھوک کی خاطر کوئی ناداں نہیں ہوتا
کر لیتا ہے نفرت میں کبھی پیار کا سودا
محبوب تو ہوتا ہے مِری جاں نہیں ہوتا
شاید کوئی منظر ہو نہاں خانۂ دل میں
ہر نخلِ بہاراں تو گلستاں نہیں ہوتا
اب رونقِ بازار کہاں میرے نگر میں
دل جس سے بہل جائے وہ ساماں نہیں ہوتا
آغازِ سفر صرف ارادے میں ہے پنہاں
بسملؔ کوئی رستہ کبھی آساں نہیں ہوتا
بسمل صابری
No comments:
Post a Comment