ہے شادئ تجلئ جاناں مآلِ عشق
کیونکر نہ ہو خوشی سے گوارا ملالِ عشق
لا پھول ساقیا! کہ گلِ داغ کھل گئے
آئی ہے جوبنوں پہ بہارِ جمالِ عشق
جس کو یہ سرفراز کرے دار ہو نصیب
مدہوشیوں کے لطف اٹھاؤں میں اے حسنؔ
دل پر مِرے گرے کہیں برقِ جمالِ عشق
حسن رضا بریلوی
No comments:
Post a Comment