صفحات

Tuesday, 12 April 2016

اک بات عیاں کی ہے تو اک بات نہاں کی

اک بات عیاں کی ہے تو اک بات نہاں کی
ہو خیر مِرے دوست تِری طرزِ بیاں کی
میں اوجِ تخیّل پہ یونہی تو نہیں جاتا
تصویر بناتا ہوں وہاں سے میں یہاں کی
مت پوچھئے کس طرح ہُوا عشق میں کندن
اس جسم کے ایندھن میں جلا، سانس دھواں کی
موسم نے مِرے کان میں ٹپکایا ہے پھر شہد
دیکھو تو، پہنچتی ہے کہاں بات، کہاں کی
مشکل میں پڑا ہوں تو یہ معلوم ہُوا ہے
جس کو بھی پکاریں تو صدا آتی ہے ماں کی

رحمان حفیظ

No comments:

Post a Comment