اک بات عیاں کی ہے تو اک بات نہاں کی
ہو خیر مِرے دوست تِری طرزِ بیاں کی
میں اوجِ تخیّل پہ یونہی تو نہیں جاتا
تصویر بناتا ہوں وہاں سے میں یہاں کی
مت پوچھئے کس طرح ہُوا عشق میں کندن
موسم نے مِرے کان میں ٹپکایا ہے پھر شہد
دیکھو تو، پہنچتی ہے کہاں بات، کہاں کی
مشکل میں پڑا ہوں تو یہ معلوم ہُوا ہے
جس کو بھی پکاریں تو صدا آتی ہے ماں کی
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment