لفظ سے ماورأ سوال بھی ہیں
کینوس سے بڑے خیال بھی ہیں
ان یُگوں سے پرے، گماں سے ورأ
بے کراں روز و ماہ و سال بھی ہیں
مِری آنکھوں کو سرسری مت دیکھ
دعوٰئ عشق ہی نہیں کرتے
دیکھ ہم صبر کی مثال بھی ہیں
بے نیازانہ کس طرح گزروں
پھول ہیں اور پائمال بھی ہیں
دینے والے سے اور کیا مانگوں
شعر ہیں اور حسبِ حال بھی ہیں
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment