Tuesday, 12 April 2016

لفظ سے ماورا سوال بھی ہیں

لفظ سے ماورأ سوال بھی ہیں
کینوس سے بڑے خیال بھی ہیں
ان یُگوں سے پرے، گماں سے ورأ
بے کراں روز و ماہ و سال بھی ہیں
مِری آنکھوں کو سرسری مت دیکھ
ان میں کچھ رنگ لازوال بھی ہیں
دعوٰئ عشق ہی نہیں کرتے
دیکھ ہم صبر کی مثال بھی ہیں
بے نیازانہ کس طرح گزروں
پھول ہیں اور پائمال بھی ہیں
دینے والے سے اور کیا مانگوں
شعر ہیں اور حسبِ حال بھی ہیں

رحمان حفیظ 

No comments:

Post a Comment