صفحات

Saturday, 9 April 2016

کلیوں کی تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں

کلیوں کی تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں
پہلی سی روشنی کہاں جامِ شراب میں
پوچھو نہ مجھ سے عشق و محبت کے سلسلے
لذت سی مل رہی ہے مجھے ہر عذاب میں
یہ راز جانتی نہ تھی تاروں کی روشنی
کتنا حسین چاند چھپا تھا نقاب میں
دو کانپتے لرزتے لبوں کی نوازشیں
لہرا کے ڈھل گئیں مِرے جامِ شراب میں
ہم ہیں گناہ گار مگر اس قدر نہیں
جتنے گناہ آئے ہیں اپنے حساب میں
لکھی گئی جو میرے ہی خوابوں کے خون سے
راہیؔ مِرا ہی نام نہیں اس کتاب میں

‏سوہن راہی

No comments:

Post a Comment