صفحات

Saturday, 9 April 2016

جہاں رقص کرتے اجالے ملے

جہاں رقص کرتے اجالے ملے
وہیں دل کے ٹوٹے شوالے ملے
 نہ پوچھو بہاروں کے رحم و کرم
کہ پھولوں کے ہاتھوں میں چھالے ملے
مِری تیرہ بختی اور ان کی ہنسی
سیاہی میں کرنوں کے بھالے ملے
نہ کچھ موتیوں کی کمی تھی، مگر
بھنور سے ہمیں صرف ہالے ملے
میں وہ روشنی کا نگر ہوں جہاں
چراغوں کے چہرے بھی کالے ملے
ہماری وفائیں ٹھٹھرتی رہیں
تمہیں رحمتوں کے دو شالے ملے
تھی راہیؔ کی منزل بھی سب سے الگ
اسے ہم سفر بھی نرالے ملے

‏سوہن راہی

No comments:

Post a Comment