صفحات

Saturday, 9 April 2016

چھن کے آتی ہے جو یہ روشنی دروازے سے

چھَن کے آتی ہے جو یہ روشنی دروازے سے 
کیا مجھے دیکھ رہا ہے کوئی دروازے سے
گھر کی تختی سے ملا آج مجھے اپنا پتہ 
اپنے ہونے کی گواہی ملی دروازے سے
میں نے دیلیز سے جانے کی اجازت لے لی 
پھر مِری بات نہ طے ہو سکی دروازے سے
ایک روزن میں پڑی آنکھ سے کھلنے لگے ہیں 
ایک دیوار کے اندر کئی دروازے سے
رات بھر سسکیاں لیتا ہے کوئی شخص یہاں 
کبھی دیوار سے لگ کر کبھی دروازے سے
خالی کمرہ مِرا کس چاپ سے بھر جاتا ہے 
آتا جاتا ہی نہیں جب کوئی دروازے سے
تُو نے مہتاب نکلتے ہوئے دیکھا ہے کبھی 
اور مہتاب بھی ایسے کسی دروازے سے

اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment