دِیے کو گل کیا اور اک ستارہ ہاتھ پر رکھا
سحر دم آنکھ کا بھیگا کنارہ ہاتھ پر رکھا
ہمیں نے آرزوئے وصل کی اور ہاتھ پھیلایا
اور اس نے ہجر کا پہلا شمارہ ہاتھ پر رکھا
کسی صحرا سےآتی تھی صدا بچوں کے رونے کی
یہی خالی ہتھیلی ہے، یہی ٹیڑھی لکیریں ہیں
یہی کچھ ہے میاں! سارے کا سارا ہاتھ پر رکھا
نگل جائے گی پھر اس شہر کی رونق کو تاریکی
مگر رہ جائے گا اک ماہ پارہ ہاتھ پر رکھا
کما کر کوچۂ عشاق سے نکلے ہیں کیا اشرفؔ
منافع بانٹ ڈالا،۔۔ اور خسارہ ہاتھ پر رکھا
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment