تم میرے دردِ دل میں شرکت نہیں کرو
سرمایۂ حیات پہ حیرت نہیں کرو
آنچل کو میرے سر سے اُڑنے کی جستجو
اے موجۂ ہوا!، یہ شرارت نہیں کرو
اے دورِ بے ہنر! یہاں تسکینِ ذوق میں
پیاسوں کا امتحان ہے دریا کے سامنے
عباس مشک بھرنے کی زحمت نہیں کرو
سیدانیوں کے سر سے رداؤں کو چھیننا
اے بانئ جفا!۔۔ یہ قیامت نہیں کرو
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment