فراقِ ہجرِ یار میں عجیب حال ہو گیا
عجیب حال ہو گیا، تو پھر وصال ہو گیا
'وہ کہہ رہا تھا 'زندگی گزارنا محال ہے
'وہ مجھ سے کہہ رہا ہے 'یار یہ کمال ہو گیا
میں شدتِ بیان سے نکل سکوں تو پھر کہوں
بہت ہوا تو یہ ہوا، فریبِ آرزو یہاں
طلب کے آئینے پہ عکسِِ پُر جمال ہو گیا
ہے آج بھی وہ منتظر تِری نگاہِ ناز کا
جو سبزہ تیرے راستے میں پائمال ہو گیا
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment