اپنے کمالِ فن کی خبر خاک سے ملی
کُوزہ گروں کو دادِ ہنر چاک سے ملی
اہلِ نظر کے واسطے ذلت سے کم نہیں
عزت جو صرف زینتِ پوشاک سے ملی
ہم پر ہمارے ہونے کا کھولا ہے جس نے راز
اس کم سخن نے اور بھی مشکل کِیا اسے
الجھن جو اس کے گیسوئے پیچاک سے ملی
کیا ظلم ہے کہ شہر کے لوگوں کو روشنی
امجدؔ خود اپنے سینۂ صد چاک سے ملی
امجد اسلام امجد
No comments:
Post a Comment