گزرتے وقت کا نوحہ سنا ہی کیوں جائے
جو کام بس سے ہو باہر کِیا ہی کیوں جائے
یہ آئے دن کا تماشا یہاں لگائیں کیوں
تمام شہر کا ذِمہ لیا ہی کیوں جائے
جو زندگی ہو فقط ماہ و سال کی گنتی
جو اپنے پاؤں سے رستے نہیں بنائے ہوئے
سوال یہ ہے کہ اس پر چلا ہی کیوں جائے
کوئی بھی زیست کا مقصد اگر نہیں بھائی
تو کیوں اٹھائیں یہ احساں، جیا ہی کیوں جائے
ہے احتجاج کی صورت خموش رہنا بھی
جو لفظ دل سے نہ نکلے، کہا ہی کیوں جائے
جہاں خلوص نہ الفت، نہ دید ہے نہ لحاظ
تو ایسے شہر میں امجدؔ رہا ہی کیوں جائے
امجد اسلام امجد
No comments:
Post a Comment