لوگ میری بستی کے کیا کمال کرتے ہیں
عکس مانگتے ہیں اور آئینوں سے ڈرت ہیں
جاتے جاتے جائے گی عمر بھر کی عادت ہے
آس کے بنا جو ہم انتظار کرتے ہیں
شاعری کے موسم میں شعر قلبِ شاعر پر
یاد چھُو بھی جائے تو خون رِسنے لگتا ہے
زخمِ آشنائی بس دیکھنے سے بھرتے ہیں
اس قمار خانے میں کیا عجب جواری ہیں
کھیل ختم ہونے پر جیتتے نہ ہرتے ہیں
روز و شب ہمارے ہیں پھول الجھے ہاروں کے
اک طرف سمٹتے ہیں، اک طرف بکھرتے ہیں
امجد اسلام امجد
No comments:
Post a Comment