Friday, 1 April 2016

لوگ میری بستی کے کیا کمال کرتے ہیں

لوگ میری بستی کے کیا کمال کرتے ہیں
عکس مانگتے ہیں اور آئینوں سے ڈرت ہیں
جاتے جاتے جائے گی عمر بھر کی عادت ہے
آس کے بنا جو ہم انتظار کرتے ہیں
شاعری کے موسم میں شعر قلبِ شاعر پر
ہجرتی پرندوں سے، دم بدم اترتے ہیں
یاد چھُو بھی جائے تو خون رِسنے لگتا ہے
زخمِ آشنائی بس دیکھنے سے بھرتے ہیں
اس قمار خانے میں کیا عجب جواری ہیں
کھیل ختم ہونے پر جیتتے نہ ہرتے ہیں
روز و شب ہمارے ہیں پھول الجھے ہاروں کے
اک طرف سمٹتے ہیں، اک طرف بکھرتے ہیں

امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment