صفحات

Monday, 4 April 2016

اپنے سوا کسی کی ہمیں جستجو نہ ہو

اپنے سوا کسی کی ہمیں جستجو نہ ہو
اب آرزو یہی ہے کوئی آرزو نہ ہو
دل ٹوٹا تو خدا مِرے نزدیک آ گیا
آوازِ آہ میں کہیں پوشیدہ 'ہُو' نہ ہو
بے عشق آدمی کی حقیقت یہی تو ہے
اک ایسا پھول جس میں کوئی رنگ و بو نہ ہو
تُو معجزے سکوت کے ہم کو بھی کر عطا
ہم حالِ دل سنائیں،۔ مگر گفتگو نہ ہو

تسنیم عابدی

No comments:

Post a Comment